مار آستین



میرے ایک استاد تھے دسویں جماعت میں۔ ماسٹر الطاف صاحب۔ گاؤں کا سکول تھا۔ گوجرہ اور سمندری کے عین وسط میں۔ وہ گوجرہ سے آتے تھے۔ امتحان سے پہلے انگریزی کی ٹیوشن پڑھاتے تھے چھٹی کے بعد۔ اور یہ ٹیوشن مفت ہوتی تھی۔ بلکہ اپنے پاس سے چائے بھی پلواتے تھے اور کچھ نہ کچھ کھلا بھی دیتے تھے۔ ان کا ہر پیریڈ حب الوطنی کی تعلیم سے شروع ہوتا اور اسی پر ختم۔ ہماری کلاس سے آٹھ فوجی، دو جج، نو ٹیچر اور ایک ڈاکٹر بنے۔ ۔۔ فوجیوں میں سے ایک شہید بھی ہے۔
فیس بک پر ایک مخصوص ذہنیت کا طبقہ نظر سے گزرا۔ لگاتار پاکستان کی مخالفت اور افغانستان اور ہندوستان کی حمایت میں بات کرتے ہیں۔ ایسی پوسٹس کرتے ہیں جن سے پاکستانیت کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ ایسے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں جس سے ملک سے نفرت کے جذبات ابھارے جائیں۔ میں نے پوسٹس پر اور پوسٹس کرنے والے اور اس میں کومنٹس کرنے والے لوگوں کا جائزہ لیا تو یہ بات سمجھنے میں مشکل نہیں ہوئی کہ یہ سب لوگ ایک خاص سیاسی جماعت سے وابستہ ہیں اور ان کا تعلق دشمن کی ایک خفیہ ایجنسی سے بھی ہے۔ یہ امر تکلیف دہ ہے مگر ان جیسے بہت ہیں اس ملک میں۔ سیاسی میدان تو ایسے غداروں سے بھرا پڑا ہے۔ جس چیز کا سب سے زیادہ رنج ہوا وہ ان افراد کا مقام ہے۔ یہ تمام لوگ انتہائی پڑھے لکھے ہیں اور بدقسمتی سے بہت بڑی بڑی یونیورسٹیوں کے پروفیسروں اور لیکچررز پر مشتمل ہیں۔ یہی نہیں، ان کے قارئین کی بہت بڑی تعداد ان کے شاگردوں کی ہے جو ان سے کہیں زیادہ زہریلے ہیں۔ پاکستان کے خلاف نفرت اور حقارت کے جو جذبات ان کے کومنٹس میں موجود ہیں اس سے مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ ان کے اساتذہ نے کس مہارت سے ان کچے ذہنوں میں ملک دشمنی کا زہر بھر دیا ہے۔ یہ وہ دہشت گرد ہیں جو بارود کے بغیر انسانی بم بنا رہے ہیں۔ یہ لوگ جسم پر نہیں ذہنیت اور سوچ اور رویوں پر خودکش حملہ کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے خلاف کوئی ضرب عضب یا ردالفساد کارگر نہیں اور نہ ہی یہ لوگ ان کی گرفت میں آنے والے ہیں۔ ان کے خلاف کوئی آپریشن نہیں کیا گیا کیونکہ ان کے ماسٹر مائنڈ اقتدار پر براجمان ہیں۔
جن معاشروں میں اساتذہ دہشت گرد بن جاتے ہیں وہاں امن ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ ہتھیار اور گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد اور خودکش بمبار اور ان کے سہولت کاروں کو تو مٹایا جا سکتا ہے مگر ان ذہنی دہشتگردی کی فیکٹریوں کا کیا ہو جو علم کے تخت پر بیٹھ کر جرم اور گناہ اور وطن سے نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں۔ جس نوجوان کی یہ ایسی منفی تربیت کر رہے ہیں وہ اس معاشرے میں جس قدر دہشتگردی پھیلائے گا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔
کسی بہت بڑے عالم نے کہا تھا کہ اگر کسی معاشرے کو تباہ کرنا ہو تو اس کے استاد کو تباہ کر دو۔
پشاور یونیورسٹی میں ہونے والے واقعات اور دیگر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پھیلنے والے پاکستان دشمن وائرس، صوبائی تعصب، مذہبی منافرت اور عدم برداشت کا جو ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل پڑا ہے اس کو تو کوئی بڑی سے بڑی فوج بھی شکست نہیں دے سکتی۔ اس کے خلاف ردالاستاد آپریشن بھی چلانا ناممکن ہے۔ مجھے تو ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ان کمرشل سکولوں کی چینز سے بھی خوف آتا ہے جو ہماری نسلوں میں بے راہ روی اور فحاشی اور عدم برداشت اس انداز سے پھیلا رہے ہیں کہ اگلی آنے والی نسلوں میں پتہ نہیں کوئی پاکستانی ہوگا بھی کہ نہیں؟؟؟
حکومت تو خود کرپٹ ہے۔ سیاسی میدان میں کوئی بھی محب وطن پاکستانی موجود نہیں ہے۔ ان کی پشت پناہی سے ہی تو یہ ذہنی دہشتگردی پروان چڑھ رہی ہے۔
جب نئی نسل کو ملک سے ہی نفرت ہوگی تو وہ ملک کے لیئے لیڈر چنتے وقت اس کے ساتھ وفاداری کیسے کریں گے؟

مجھے یہ بات تو پتہ نہیں کہ یہ علمی میدان سے اٹھنے والا کینسر کس طرح سے ٹھیک ہوگا مگر مجھے یہ ضرور پتہ ہے کہ اگر یہ سلسلہ فوری طور پر روکا نہ گیا تو اس ملک میں محب وطن پاکستانی نوادرات میں بھی شاید ملنا ناممکن ہو جائے گا۔

جن کے ہاتھوں میں اللہ تعالیٰ نے طاقت عطا فرمائی ہے ان سے میری دردمندانہ اپیل ہے کہ اللہ کے واسطے اس ملک کی انگلی نسلوں کو مکمل طور پر تباہ ہونے سے بچا لیں۔ ہمارے اداروں سے دشمن کے ایجنٹوں کو نکال کر ہمارا نظام تعلیم ٹھیک کر دیں۔ کہیں سے پکڑ کر کوئی قائد اور اقبال لا کر ان اداروں میں سجا دو۔۔

پاکستان کو بچانا ہوگا۔
پاکستان میں پاکستانیوں کو پاکستانی بنانا ہوگا۔
تعلیمی اداروں کو حب الوطنی سے سجانا ہوگا۔
اساتذہ میں سے غداری کے مرتکب دشمن کے ایجنٹوں کو مٹانا ہوگا۔۔۔۔

اس ملک کا ہر فرد ردالفساد کا سپاہی ہے تو سب سے بڑا فسادی تو ہمارا استاد یے۔۔ اس کا زہر نکال کر اس کو محب وطن پاکستانی بنا لو۔۔ پوری قوم محب وطن ہو جائے گی۔۔ ان شاءاللہ۔



Facebook Comments