ظلم رہے اور امن بھی ہو؟



چند روز قبل ایک خبر نظروں سے گزری، کراچی میں 30 روپے ماہانہ تنخواہ مانگنے پر 15 سالہ کوڑا اُٹھانے والا غریب بچہ قتل۔۔۔ پھر خبر پڑھی پنجاب کے ایک گاؤں میں زمیندارنی نے 14 سالہ ملازم بچے کا ہاتھ ٹوکے میں دے کر کاٹ ڈالا۔ کراچی ہی میں 12 سالہ بچے کے ساتھ بد فعلی۔۔۔ سندھ میں نو سالہ گھریلو ملازمہ کے ساتھ۔۔۔ پھر پنجاب میں ایک 10 سالہ ملازمہ نے ڈنڈوں کی مار کے خوف کیوجہ سے چھت سے چھلانگ لگا دی۔۔۔ اور جس خبر نے میرا سر شرم سے جُھکا دیا وہ یہ تھی کہ پنجاب کے ایک ضلع میں ایک گدھے کے ساتھ پانچ افراد کی بد فعلی۔۔۔ میرا سر شرم سے جُھک گیا۔۔۔

یہ انسان ” اشرف المخلوقات ” ہے یا ” شر الدّواب” ؟ یعنی جانوروں میں بھی بد ترین جانور۔۔۔ ! میرے ملک میں غریب بچے بچیاں ملازم نہیں خادم یا غلام ہوتے ہیں اور جہاں گاؤں کے اَن پڑھ ماں باپ ماہانہ چند سو روپے کے عوض اپنے کمسن بچوں کی معصومیت اور عزتیں بھی بیچ آتے ہیں۔

قارئین وطن سے دور ہونے اور میڈیا کے شعبے سے وابسطہ ہونے کی وجہ سے نا چاہتے ہوئے بھی ہر روز ایسی درجنوں خبریں میری نظر سے گزرتی ہیں۔ آپ بھی آج ہی کا اخبار اُٹھا کے دیکھ لیجیے، اجتماعی عصمت دری، بد فعلی، غریب بچیوں کی عزت کی پامالی اور کمسن بچوں کی معصومیت چھین لیے جانے کے واقعات کے ساتھ ساتھ چند سو روپے کے لیے کسی غریب کا قتل ، ہاتھ یا پاؤں سے محروم کر دینا، زبان، ہاتھ یا بازو کاٹ دینا وغیرا وغیرااب وہ خبریں ہیں جن پر ہم بات کرنا تو دور سوچنا تک گوارہ نہیں کرتے کیونکہ یہ بچے ہمارے اپنے نہیں ہوتے اور حکومت اور آرمی بھی انکو اتنا اہم نہیں سمجھتی کیونکہ گلی کوچوں میں ، شہروں گاؤں میں،کبھی روشنی اورکبھی اندھیرے میں۔۔ظلم کے اندھیروں کی بھینٹ چڑھنے والے یہ بچے کسی آرمی پبلک سکول میں نہیں پڑھتے نہ ہی انکا باپ کوئی وزیر مشیر ہوتا ہے ۔۔اور پھر ہم ڈھنڈورہ پیٹتے ہیں امن کا؟ایسا ظلم تو خُدا کے قہر کو دعوت دینا ہے۔۔ظلم بھی ہو اور امن بھی ہو؟

پانامہ کا فیصلہ کیا آیا، عمران خان کا اگلا جلسہ کہاں ہے، فوج کیا کہہ رہی ہے، چیف جسٹس نے کیا فرمایا، یونس اور مصباح جارہے ہیں، کلبھوشن کا کیا بنا، زرداری اور سراج الحق دل ملائیں یا ہاتھ، غرض یہ سب اور اس طرح کی تمام باقی لغو بکواس خبریں۔ ۔۔ مجھے کسی سے کوئی غرض نہیں بلکہ سچ کہوں تو میں لعنت بھیجتی ہوں اِن بڑے بڑے لوگوں کے بڑے بڑے مسائل اور بڑی بڑی باتوں پر۔

لیکن ہاں مجھے میرے ملک کے چھوٹے ، معصوم، غریب ، بے ضرر اور بے بس لوگوں کی خصوصاً بچوں کی فکر ہے کہ یہ بچے جنہیں مستقبل کا معمار کہا جاتا ہے ان کے ساتھ جوِ کیا جارہا ہے کیا یہ واقعی مستقبل کے معمار بن پائیں گے؟کہیں خُدا ناخواستہ ایسا تو نہیں کہ یہی وہ بچے ہیں جومستقبل کے معمار بننے کی بجائے تخریب کار اور اسلحہ بردار بنتے ہیں؟ جو فصل ہمارے بڑے آج بو رہے ہیں وہ کل بحرحال کسی نا کسی کو کاٹنا تو ہوگی ، اور اچھا ہے اگر ہم اپنے جوش اور بات بے بات احتجاج کرنے والی فطرت کا رُخ درست سمت میں بدل لیں۔اگر متحد ہونا ہے اور واقعی کچھ کرنا ہے ، اگر واقعی آواز اُٹھانی ہے تو اِن لاچار بے بس مظلوموں کے لیے آواز اُٹھایہ نہ صرف ملک و قوم اور عوام کی کی حقیقی خدمت ہوگی بلکہ ایک بڑی نیکی بھی ہوگی جس کا اجر اللہ تعالیٰ نہ صرف آخرت میں دیگا بلکہ ہمیں اسکے ثمرات اسی دنیا ، اسی زندگی اور اپنے اِسی ملک میں بھی نظر آئیں گے۔

اخر میں اسلم کولسری کا ایک قطعہ یاد آرہا ہے کہ،
تجھے اب کس لیے شکواہ ہے بچے گھر نہیں رہتے،
جو پتّے زرد ہوجائیں وہ پیڑوں پر نہیں رہتے۔۔
یقیناً یہ رعایا بادشاہ کو قتل کر دیگی،
مسلسل جبّر سے اسلم دِلوں میں ڈر نہیں رہتے۔۔



Facebook Comments