پاکستان کے خطرات اور پاکستانیوں​ کے خدشات



اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اس وقت شدید خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتیں مکمل طور پر ملک دشمن ہیں اور عوام کے اجتماعی استحصال کی نہ صرف زمے دار ہیں بلکہ قوم کی اس درجہ تنزلی کی وجہ بھی ہیں۔ اور غداری کی جڑیں ان کے گھروں میں جا کر رکتی ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اس ملک کا ہر ادارہ اس وقت انتہائی شدید بدعنوانیوں میں ملوث اور ملک دشمنی پر تلا ہوا ہے۔ ایسے میں قوم کی نگاہیں بلاشبہ فوج پر جا کر رکتی ہیں کہ فوج کے علاؤہ کوئی نجات دہندہ نظر بھی تو نہیں آتا۔ حالات و واقعات اس تیزی سے خراب ہو رہے ہیں کہ فوج کے لئے بہت اہم فیصلے کرنے کا وقت آگیا ہے۔ سیاسی خلفشار اور حکومتی نااہلی، عدلیہ کی کمزوری اور غیر ثابت قدمی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حد درجہ کرپشن اور بے حسی، انتظامیہ کی متواتر لاپرواہی اور سیاسی لیڈروں کی پشت پناہی اور حد درجہ چاپلوسی یا غلامی اور عوام کی جانب سے کسی بھی قسم کے مثبت ردعمل کا فقدان اس ملک کے لئے شدید خطرے کا باعث ہیں۔ 
لگاتار حکومتی نااہلی اور غیر معیاری پالیسیوں کے نتیجے میں دشمن  کے ایجنٹوں اور نفسیاتی جنگ کے انٹیلیجنس اداروں نے ہمارے اندر قومی یک جہتی اور وقار کا ایک ایسا فقدان پیدا کر دیا ہے کہ عوام اس وقت ڈپریشن کے شدید غلبے میں ہیں۔ ایسے مواقع پر قوم میں بہت تیزی سے وہم اور خدشات کے جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں۔ اعتماد کی کمی اور کنفیوژن کی وجہ سے وہ کچھ بھی صحیح سوچنے کی پوزیشن میں نہیں رہتے ہیں۔ اس طرح کے منفی حالات میں دشمن کے لئے عوام میں بیچینی اور مایوسی پھیلانا اور بھی آسان ہوتا ہے۔ لگ بھگ اس وقت ہم پاکستان والے بھی اسی کیفیت سے دوچار ہیں۔ اس نازک وقت میں ایک ایسی لابی نے جنم لیا ہے جو بجائے قوم کی رہنمائی اور ڈھارس بندھانے کے اپنی دشمن زدہ ذہنیت کے ساتھ باقاعدہ عوام کو مزید گمراہ کرنے کے ایجنڈے کے ساتھ سرگرم عمل ہیں۔ یہ دشمن لوگوں میں فوج کے خلاف نفرت پیدا کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ یہ وہ کام ہے جو خود حکومت بھی چاہتی ہے۔ فوج کے پاس جو بھی آپشنز ہیں وہ انہیں افراتفری میں استعمال کرنے سے گریزاں ہے۔ سوچ سمجھ کر، ماضی کی طرح کسی غیر منطقی طریقہ سے یا عجلت میں کچھ بھی نہیں کرنا چاہتے بلکہ نپے تلے انداز میں صورت حال کا بغور جائزہ لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس احتیاط کو بھی یہ لابی فوج کی کمزوری اور کرپشن مافیا سے الحاق جیسے نام دے رہے ہیں۔ بار بار فوج کو اکسایا جا رہا ہے کہ مارشل لاء نافذ کر دے۔ یہ مارشل لاء کسی بھی صورت میں نہ تو ملک کے مفاد میں ہوگا اور نہ عوام کے، اس کا فائدہ ہوگا تو صرف ایک مخصوص طبقے کو یا خاندان کو، جو اس وقت کچھ بھی کر کے اس ملک سے بھاگنا چاہتا ہے۔
مارشل لاء ان کی سیاسی شہادت کا سب سے طاقتور مہرہ ہے اور اس ایک اقدام کے لئے وہ اس حد تک گر چکے ہیں کہ ملکی مفادات اور وقار تک کو بلکہ ملکی سلامتی کو بھی داؤ پر لگانے کے لئے تیار ہیں۔ایک عالم کہ رہے تھے کہ کلبھوشن کا مقدمہ ہو یا بھارت یا افغانستان کی جانب سے جارحیت یا ایران کی جانب سے دھمکیاں یا ملک میں دہشت گردوں کے حملے، یہ کچھ بھی کر کے پاناما سے پہلے بھاگ جانا چاہتے ہیں۔
 میرا خیال ہے کہ فوج کے پاس سوائے خاموشی سے آگے بڑھنے اور ظاہری طور پر اس مافیا سے شانتی کی ایکٹنگ کرکے ان کو پاناما کی تکمیل تک گھسیٹنا اچھی حکمتِ عملی ہے۔ میں بھی اگر موجودہ چیف کی جگہ ہوتا تو اسی طرح سے تحمّل کے ساتھ کام لیتا اور ان کو ان کے انجام تک پہنچانے کے لیے کوئی بھی فیصلہ عجلت میں نہ کرتا۔ اگر میرا اندازہ غلط نہیں ہے تو فوج کی یہ حکمت عملی کافی موثر ثابت ہوگی اگر ایسا ہی ہے۔ میرا دل نہیں مانتا کہ فوج کا سپہ سالار اس قدر کمزور ہوگا کہ وہ خود پر الزام لے کر اور فوج کے مورال کو ڈاؤن کرکے چند ٹکوں پر بکنے والا اور تاریخ میں اپنا نام سیاہ حروف سے لکھوانے والا شخص ہوگا۔ جس شخص نے 38 سال اس فوج کو اپنا سب کچھ دے دیا اور جس کے ساتھ اس کے باپ کا بھی رشتہ تھا اور جس فوج کے سربراہ کو دنیا کا طاقتور ترین کمانڈر سمجھا جاتا ہے وہ ایک دو ٹکے کے کرپٹ سیاستدان کے ہاتھ میں بک جائے گا۔ وہ چاہے تو صرف ایک جھٹکے میں اس ملک کا مالک بن سکتا ہے، اسکو ان لٹیروں کے پھینکے گئے گندگی سے اٹے نوٹوں کے بدلے اپنا وقار بیچنے کی کیا ضرورت ہے؟ 
مجھے یہ بات سمجھنے میں کچھ وقت لگا کہ فوج اگر سیانی ہوگئی ہے تو ان سیاسی لٹیروں کا کیا بنے گا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پاکستان میں فوج کے اس نپے تلے انداز سے ایک بہت بڑی تبدیلی آنے والی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ عدلیہ کا ضمیر جاگنے والا ہے۔ انتظامیہ کی غیرت جاگنے والی ہے اور قوم کو خوشخبری ملنے والی ہے؟
 فوج تو پھر سے سر فخر سے اونچا کر ہی لے گی مگر مجھے ڈر ہے کہ اس موقع پر اس نفسیاتی جنگ کے دور میں میرے ملک کے بہت سارے ایسے لوگ ایسے فوجی اور عالم فاضل شیر جو اس وقت اپنی پاک فوج اور اس کے سربراہ پر کیچڑ اچھال رہے ہیں، دشمن کے ایجنٹوں کی فہرست میں شامل نہ کر دئے گئے ہوں۔ اظہار رائے ایک چیز ہے مگر کسی ادارے یا لیڈر کی تضحیک اور بدنامی اور اس درجہ تک تنقید کہ جسے پڑھ کر کسی دشمن کو بھی یہ رنج پہنچے کہ یہ کیسے لوگ ہیں کہ جن میں اتنا حوصلہ ہے کہ اپنے ہی بیٹوں کی عزت خاک میں ملا دی۔ 
خدا کی قسم چند دن بعد جب یہ دھول چھٹے گی تو مجھ جیسے بہت سے انٹیلیکچوئلز اپنے کئے پر نادم ہونگے مگر ان کا ضمیر انہیں جھنجھوڑتا رہے گا اور وہ پل پل احساس گناہ سے جلتے رہیں گے۔ اس وقت دشمن کے نہیں اپنوں کا ساتھ دیں۔ بات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ فوج ہی غدار ہوگئی تو سوچو بچے گا کیا۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر خود سے سوال کریں کہ کیا واقعی باجوہ اتنا گھٹیا انسان ہے؟
جواب جو بھی ہو۔۔ اپنے آئیندہ کے رویے سے دکھانا ۔۔ مجھے نہ بتانا۔
مجھے فخر ہے کہ میں اپنی فوج سے کبھی مایوس نہیں ہوا اور نہ ہی میری فوج نے مجھے یا قوم کو مایوس کیا۔ سپہ سالار پاکستان قوم کا غرور ہے۔ اس کا بک جانا قوم کی موت ہوگا۔ اور مجھے یقین ہے کہ میرا رب اپنی فوج پر کسی غدار کو آنے نہیں دے گا۔
پاک فوج تجھے تیرے اس چاہنے والے کا سلام۔
نورجہاں اب اس فوج کے بیٹوں کو کہ رہی ہے
اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے
تو لبھدی فریں بازار کڑے۔۔
اور وہ یہ گیت کبھی واپس نہیں لے گی کیونکہ اسے پتہ ہے کہ اس قوم کے یہ پتر مر تو سکتے ہیں بک نہیں سکتے۔
ہندوستان۔۔۔ یاد رکھو کہ فوج کے بیٹوں کا تم اور تمہارا پروپیگنڈا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔۔ یہ وہی فوج نے جس نے ابھی غزوہ ہند لڑنی ہے اور حضرت امام مہدی کے ساتھ مل کر یہودیوں کو مارنا ہے اور پوری دنیا میں اپنے رب اور رسول کا پرچم بلند کر کے رب کا نظام لاگو کرنا ہے۔۔
اے پتر کدے وی نہیں وکدے۔۔


Facebook Comments